Behenchara

کب عشق و مے سے آخر باز آئے گی غزل؟

کب عشق و مے سے آخر باز آئے گی غزل؟
عنوانِ زن کو کب تک دہرائے گی غزل؟
یہ کاروبارِ مرداں بیچے وصال و ہجر
کیا اشتہار بن کر رہ جائے گی غزل؟
نازک وہ ہے، حسیں بھی، بے رحم قاتلہ
کچھ پیچ حسنِ ظن (زن) کے سلجھائے گی غزل؟
پروینؔ نیک ہے تو کیا شاعری کا غم
آمد سے اس کی محفل ہو جائے گی غزل
نعتیں بھی مرثیے بھی شاید وہ لکھ سکے
زیرِ نگاہِؔ دنیا کہہ پائے گی غزل؟
لکھنے پہ آئے گی تو الفاظ کب ملیں گے
کاجل کے ساتھ اس کے بہہ جائے گی غزل
۔۔۔۔۔۔۔
افکارِ نو کو دل سے اپنائے گی غزل
کہنہ روایتوں سے پِھر جائے گی غزل
ہے شاعری میں شامل زہرِ پدر سری
تریاق اس کا لیکن بن جائے گی غزل
انسانیت کے جذبوں کو پیرہن تو دے
عشق و جنوں کی منزل پا جائے گی غزل
یک طرفہ گو مخاطب عورت سے وہ رہی
دو طرفہ گفتگو اب ہو جائے گی غزل
نالے تو کر چکی ہے اپنا جِتا کے حق
بلبل حقوقِ گُل پر اب گائے گی غزل
اس باغ میں کرنؔ ہیں سب ہی کو مسئلے
سب کی کہے سنے گی تو بھائے گی غزل
By Kiran

Cover Art by Maham Fatima

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *